
منصب نہیں خدمت انسان کی پہچان ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے افضل البشر بنایا۔ سید المرسلین بنایا۔ سدرة المنتهى تک پہنچے لیکن اس کے باوجود نبی کریم ﷺ ہمیشہ اپنے آپ کو عام لوگوں ہی میں سے ایک فرد سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو دوسروں سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے۔
آپ ﷺ کے بیٹھنے کے انداز اور صحابۂ کرامؓ کی مجلس میں کوئی امتیاز محسوس نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ جہاں مجلس ختم ہوتی، وہیں صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ آپ ﷺ صحابہؓ کے درمیان اس طرح بیٹھتے کہ کوئی اجنبی شخص آتا تو اسے معلوم نہ ہوتا کہ ان میں محمد ﷺ کون ہیں، یہاں تک کہ وہ لوگوں سے آپ ﷺ کے بارے میں پوچھتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کپڑے خود سی لیا کرتے تھے، اپنی جوتی کی خود مرمت کر لیا کرتے تھے، اور اپنے گھر میں وہ تمام کام انجام دیتے تھے۔ جو عام طور پر مرد اپنے گھروں میں کیا کرتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے:
رسول اللہ ﷺ اپنے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، اپنی بکری کا دودھ خود دوہتے تھے اور اپنے کام خود انجام دیتے تھے۔
ایک شخص نے آپ ﷺ سے کہا: اے محمد! اے ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے! اے ہم میں سب سے بہتر شخص اور ہمارے بہترین شخص کے بیٹے!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اے لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو، کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ میں محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ تم مجھے اس مقام و مرتبہ سے بڑھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے مقرر فرمایا ہے۔”
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے فرمایا
واخفض جناحك لمن اتبعك للمؤمنين
ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمھاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آو
یہ تو اللہ عزوجل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دی ہے۔
انسان کو اپنے مقام منصب اور دولت پر غرور و ناز نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی حیثیت کو بھول جائے۔ کیونکہ تمام انسان بشر ہیں۔ منصب اور عہدہ انسان کی حقیقت کو نہیں بدلتے۔ اور نہ ہی انہیں کوئی دوسری مخلوق بنا دیتے ہیں۔ یہ منصب اور عہدے اللہ کی جانب سے آزمائش ہوتے ہیں۔ کوئی اس سے بڑا نہیں بنتا۔ لہٰذا انسان کو زندگی کے ہر حال میں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ بھی عام انسانوں ہی میں سے ایک فرد ہے۔
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قاضی شُریح کے سامنے اپنے ایک غیر مسلم مدعی علیہ کے ساتھ مقدمہ پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ قاضی شُریح نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو حضرت علیؓ ناراض ہوئے اور بیٹھنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ اس بات پر راضی نہ تھے کہ آپ کا فریقِ مخالف کھڑا ہو اور آپ بیٹھ جائیں۔ آپؓ کے نزدیک یہ انصاف کے تقاضے کے خلاف تھا
ذرا تصور کیجیے! اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے، لیکن عدالت میں وہ بھی ایک عام فریق کی حیثیت سے پیش ہوئے اور انصاف کے تقاضوں کو اپنے منصب سے بالاتر نہیں سمجھا۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے
وہ اپنے آپ کو عام لوگوں سے بالاتر نہیں سمجھتا۔ تکبر کا رویہ اختیار نہیں کرتا۔ وہ لوگوں کی خدمت کو اپنا شیوہ بناتا ہے۔ آج کے دور میں کوئی حکمران کوئی سیاست دان ایسا نہیں ملے گا جو بے لوث اور خلوص دل کے ساتھ ملک اور قوم کی خدمت کرتا ہو۔
ہم تو ان لوگوں کو جو کچھ کام نہیں کرتے ہیں۔ انھیں پھولوں کی مالائیں پہناتے ہیں۔ جو عام لوگوں کے پیسے لوٹ کر اپنے لئے عیاشیوں کے سامان پیدا کرتے ہیں ۔ انھیں تہنیت نامے پیش کرتے ہیں۔ ان کی شال پوشی کی جاتی ہے۔ جو ووٹ کے وقت بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں۔ پھر پلٹ کر دیکھتے بھی نہیں ہیں۔
بھولے بھالے عوام ان کے جھوٹے وعدوں پر یقین کرتے ہیں۔ ان پر سوال کرنے والا گنہگار کہلاتا ہے۔ کچھ لوگ ان سے ذاتی فائدہ ضرور اٹھاتے ہیں۔ غیر قانونی کاموں کو وہ قانونی بنا دیتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کے سردار کو خادم قوم قرار دیا ہے
آج لوگ خادم نہیں مخدوم بنے ہوئے ہیں۔ علماء اور مشائخ کے جوتے اٹھانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔وہ خود کام نہیں کرتے اپنے مریدین سے کام لیتے ہیں ۔ ان سے سوال کرنا بے ادبی اور گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ خدمت اپنے والدین کی کریں۔ جن کے پاؤں کے نیچے جنت ہے اور جن کے ہاتھ میں جنت کی کنجی ہے۔
اسلام وقت کے قاضی سے ہی نہیں خلیفہ وقت سے باز پرس اور سوال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ خلیفہ وقت سے سوال کرنے والے کو گستاخ نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ گفتگو کا انداز مناسب ہونا چاہیے
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے ایک لمبا کپڑا پہن رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا
’’اے لوگو! میری بات سنو اور اطاعت کرو ۔‘‘
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! ہم نہ آپ کی بات سنیں گے اور نہ مانیں گے
مجمع میں سناٹا چھا گیا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’اے سلمان! ایسا کیوں؟
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
’’آپ نے دو کپڑے پہن رکھے ہیں، جبکہ ہمیں بیت المال سے ایک ایک کپڑا دیا گیا ہے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’اے عبداللہ! اٹھو اور سلمان کو جواب دو۔‘‘
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
’’میرے والد قد آور آدمی ہیں، اس لئے انہوں نے مسلمانوں میں تقسیم ہونے والے اپنے حصے کے کپڑے کے ساتھ میرا کپڑا بھی لے لیا اور اسے اپنے کپڑے کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔‘‘
یہ سن کر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’اب کہیے، اے امیرالمؤمنین! ہم آپ کی بات سنیں گے، اور آپ حکم دیں گے تو ہم اطاعت کریں گے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
’’اللہ کی قسم! اگر دریائے دجلہ کے کنارے کوئی خچر بھی ٹھوکر کھا کر گر جائے تو مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھے گا کہ اے عمر! تم نے اس کے لئے راستہ کیوں نہ درست کیا؟‘‘
آج کے حکمرانوں کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں ہے
راستوں کے نا درست ہونے کی وجہ سے کتنے حادثات پیش آتے ہیں۔ کتنے گڑھے ان راستوں پر پڑے ہوئے ہیں۔
جو کسی حادثہ کی وجہ سے موت کے گڑھے ثابت ہوتے ہیں۔ رقم سرکار کی جانب سے آتی ہے۔ وہ اپنی لکژوری گاڑیوں پر گھومتے ہیں۔ لیکن عوام الناس کی فکر نہیں ہوتی۔ انسان مادہ پرست ہے۔ کسی کے دکھ کا اسے خیال نہیں۔ بس اپنے ہی سکھ کا خیال ہے
نیپال میں جو تباہ کن اور قیامت خیز سیلاب آیا۔ اس میں ہزاروں انسانوں کی موتیں ہوئیں ۔ یہ ایک عبرتناک منظر تھا۔ لاشیں پانی میں تیر رہیں تھیں۔ لیکن ایسے انسان نما درندے موجود تھے جو خواتین کی لاشوں کے کانوں سے بالیاں اور گلے سے ہار نکال رہے تھے۔
جب پانی میں بے گوروکفن لاشیں تیر رہی ہوں، جب کسی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے گھر والے اس کی لاش کی تلاش میں بھٹک رہے ہوں، اسی وقت کچھ انسان نما درندے ان بے جان عورتوں کی لاشوں کے ساتھ گھناؤنا سلوک کر رہے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس قدر اخلاقی پستی میں گرا ہوا ہے
منصب نہیں، خدمت انسان کو بڑا بنا دیتی ہے۔
عہدہ اور اقتدار عارضی ہیں، مگر خدمت اور کردار ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
اپنے منصب سے ذاتی فائدہ نہ اٹھائیں۔ ہوسکتا ہے اس سے کچھ وقتی راحت مل جائے، لیکن آپ کی مخلصانہ خدمت لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی، لوگ آپ کی خدمت کو مدتوں یاد رکھیں گے۔ اور الله تعالی اجر سے نوازے گا
سید محمد زبیر مارکیٹ بھٹکل

