
یہ عظیم انسان میرے والد ہیں
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے صحابہؓ سے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا، اس نے بکریاں چرائی ہیں۔
صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بھی؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، میں بھی اہلِ مکہ کی بکریاں چند قیراط اجرت کے عوض چرایا کرتا تھا۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔
گورکن ہوں۔ غسال ہوں۔ موچی ہوں۔ یا باربر ہوں۔ کوئی پیشہ حقیر نہیں ہوتا۔ لیکن بعض لوگ اپنے فخر و غرور کی وجہ سے حقیر ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کتنے ہی بڑے پوسٹ پر کیوں نہ ہوں۔
اگر صفائی کرنے والا نہ ہو تو آپ ایک دن بھی گھر میں اطمینان سے نہیں بیٹھ سکیں گے۔ آپ اس شخص کا شکر ادا کریں۔ جس نے آپ کے گھر سے گندگی اٹھائی۔ لیکن بدلہ میں ایسے شخص کو گالی ملتی ہے
آپ کے سر پر بال جب بڑھ جائیں سر بھاری بھاری لگتا ہے۔ لیکن باربر آپ کے سر کے بال تراش کر اسے ہلکا کرتا ہے۔ سر اور چہرے کو سنوارتا ہے
اکثر لوگ سوال کرتے ہیں۔ گورکن روزانہ قبروں کو کھودتے ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر نماز نہیں پڑھتے۔ بعض گورکن جوا بھی کھیلتے ہیں۔ وہ میت سے عبرت کیوں نہیں لیتے۔
حالانکہ سب سے زیادہ انھیں عبرت لینی چاہیے۔ لوگ کبھی ناراض ہوتے ہیں کبھی غصہ بھی کرتے ہیں۔ کہ روزانہ قبروں کی کھدائی کے باوجود ان کا ایسا رویہ کیوں ہے؟۔ گورکن موت کو وہ قریب سے دیکھتے ہیں۔ قبرستان میں ان کے شب و روز گزرتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی میں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسا کیوں ہے؟۔ اس پیشہ سے جو لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیشہ اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ادنی اور حقیر سمجھا جاتا ہے۔ کوئی اس پیشہ کو اختیار کرنا نہیں چاہتا۔ اس سے گزیز کیوں کہ سوسائٹی میں اس کو اچھی نظروں سے دیکھا نہیں جاتا ۔ گورکن نام ہی ایسا ہے۔ لوگ اس پیشہ سے دور بھاگتے ہیں۔ یہ پیشہ کوئی برا نہیں ہے۔ لیکن سماج میں اس کو ہلکا سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے صالح افراد اسے نہیں ملتے۔
گورکن ہو۔ غسال ہو۔ پیشہ کوئی ذلت آمیز نہیں ہوتا۔ کسی ادنی پیشہ والے کو بھی حقارت کی نگاہوں سے دیکھنا نہیں چاہیے۔ غسال جو میت کے جسم کو صاف کرتا ہے
ہر طرح کی چھوٹی بڑی میتوں کو وہ غسل دیتا ہے۔
دوسروں سے زیادہ اسے عبرت لینا چاہیے۔ مگر عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ میتوں سے متعلق کام کرنے والے عبرت نہیں لیتے ہیں۔ ضروری نہیں کوئی اس پیشہ کو اختیار کرے۔ گورکن ہو۔ غسال ہو۔ ضروری نہیں کہ ان کی اولاد بھی اسی پیشہ کو اختیار کرے۔ لیکن کسی پیشہ کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
ادھم شرقاوی لکھتے ہیں ایک لڑکی جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئی تھی۔ اس کے والد نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ کسی کو یہ نہ بتائے۔ کہ اس کا باپ بلدیہ میں سڑکوں کی صفائی کا کام کرتے ہیں۔
لڑکی نے اپنی گریجویشن کی پوشاک پہنی، اس جگہ پر گئی جہاں اس کے والد صاف صفائی کا کام کرتے ہیں۔اور اس نے کسی شخص سے کہا کہ اپنے باپ کے ساتھ اس کی تصویر بنائے۔ جب وہ اپنے والد کے سر پر بوسہ دے رہی ہو۔ پھر اس نے وہ تصویر سوشل میڈیا پر شائع کی اور لکھا:’ “یہ عظیم انسان میرے والد ہیں”
سید محمد زبیر مارکیٹ بھٹکل

