
اتر کنڑا ضلع: وزیر لکشمن ساودی کو ضلعی نگران (اِنچارج) وزیر مقرر کیا گیا، ضلع کو وزارت نہ ملنے پر مایوسی
بھٹکل / کاروار، 4 اگست: کرناٹک کابینہ کی حالیہ توسیع کے بعد اترکنڑا ضلع کے عوام اور کانگریس کارکنوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ اس بار ضلع سے کسی بھی رکنِ اسمبلی کو وزیر نہیں بنایا گیا۔ ضلع میں کانگریس کے پانچ اراکینِ اسمبلی ہونے کے باوجود کسی ایک کو بھی کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر کارکنان اور مقامی قیادت میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
وزارت کے لیے سابق وزیر اور بھٹکل کے رکنِ اسمبلی منکال ویدیا کا نام تقریباً طے مانا جا رہا تھا، تاہم آخری لمحوں میں ان کا نام فہرست سے خارج کر دیا گیا اور ان کی جگہ داونگیرے کے ایس۔ ایس۔ ملیکارجن کو کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔ اس اچانک تبدیلی کے باعث منکال ویدیا وزارت سے محروم رہ گئے، جس پر ضلع بھر میں مختلف حلقوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اترکنڑا جیسے اہم ضلع کو کابینہ میں نمائندگی نہ ملنا مقامی عوام کے لیے مایوس کن ہے، کیونکہ ضلع کے کئی ترقیاتی منصوبے اور عوامی مسائل براہِ راست حکومتی نمائندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ کانگریس کارکنوں کا بھی ماننا ہے کہ ضلع کی خدمات اور سیاسی اہمیت کے پیش نظر کم از کم ایک وزیر کا عہدہ ملنا چاہیے تھا۔
دوسری جانب حکومت نے لکشمن ساودی کو اترکنڑا ضلع کا نیا ضلعی نگران (اِنچارج) وزیر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد ضلع کا دورہ کریں اور موجودہ صورتحال، خصوصاً بعض علاقوں میں خشک سالی اور دیگر مقامات پر مسلسل بارشوں سے پیدا ہونے والی مشکلات کا جائزہ لیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ متعلقہ افسران کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے امدادی اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ بھی لیں گے۔
اب ضلع کے عوام کی نظریں نئے ضلعی نگران وزیر پر مرکوز ہیں کہ وہ اترکنڑا کے بنیادی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے، کسانوں اور عوامی فلاح سے متعلق معاملات کو کس حد تک ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم ضلع کو براہِ راست کابینہ میں نمائندگی نہ ملنے کا معاملہ آئندہ دنوں میں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔
رپورٹ : کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

