
میسور: ہنسور کی سب ڈویژنل مجسٹریٹ کاویہ رانی لوک آیوکت کے جال میں گرفتار، رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں
میسور، 3 اگست: کرناٹک کے ضلع میسور سے ایک اہم بدعنوانی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ہنسور کی سب ڈویژنل مجسٹریٹ کاویہ رانی اور ان کے قریبی معاون شیو کمار کو لوک آیوکت پولیس نے مبینہ طور پر رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
اطلاعات کے مطابق ایچ۔ڈی۔کوٹے تعلقہ کی ایک زمین سے متعلق مقدمہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ اس کیس کے سلسلے میں بنگلورو کی رہائشی ڈاکٹر روپا سے فیصلہ ان کے حق میں کرنے کے عوض مبینہ طور پر 10 لاکھ 50 ہزار روپے رشوت طلب کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس رقم میں سے پہلی قسط کے طور پر 5 لاکھ روپے پہلے ہی وصول کیے جا چکے تھے، جبکہ پیر کے روز دوسری قسط کے طور پر 5 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کیے جا رہے تھے۔ اسی دوران لوک آیوکت پولیس نے منصوبہ بند کارروائی کرتے ہوئے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انہیں مبینہ رشوت کی رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
کارروائی کے بعد کاویہ رانی کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ ان کے معاون شیو کمار سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ لوک آیوکت حکام کی جانب سے معاملے کی مزید قانونی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس کیس سے جڑے دیگر حقائق بھی سامنے لائے جا سکیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کاویہ رانی اس سے قبل اتر کنڑا ضلع کے سرسی اور انچارج سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی حیثیت سے بھٹکل میں بھی اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
اس کامیاب کارروائی کی قیادت لوک آیوکت ڈی وائی ایس پی شیلندر نے کی، جبکہ تفتیشی افسران روی کمار، مدیکیری کے ڈی وائی ایس پی دنکر شیٹی، انسپکٹر وینا نائک اور لوک آیوکت کے دیگر اہلکار بھی کارروائی میں شریک رہے۔
لوک آیوکت پولیس نے معاملے میں مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں اس کیس سے متعلق مزید اہم انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔
رپورٹ : کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

