ڈاکٹر باغ سراج صاحب — ایک کامیاب پرنسپل، ایک عہد ساز شخصیت

ڈاکٹر باغ سراج صاحب — ایک کامیاب پرنسپل، ایک عہد ساز شخصیت
بقلم حنیف شاہ شبنم بھٹکلی

مرحوم ڈاکٹر باغ سراج صاحب بہت عرصہ قبل انجمن آرٹس، سائنس اینڈ کامرس کالج، بھٹکل کے ایک کامیاب پرنسپل تھے، جو بالآخر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ بقولِ خود:
ہر چیز ہے قابو میں مگر موت نہیں ہے
چلتا ہے اگر زور کسی کا تو اجل کا

انجمن آرٹس، سائنس اینڈ کامرس کالج، بھٹکل، شہر بھٹکل کا ایک ممتاز تعلیمی ادارہ ہے، جہاں سے خاکسار نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ اس ادارے کی تعلیمی ترقی اور اس کے وقار میں اضافے کے حوالے سے مرحوم ڈاکٹر باغ سراج صاحب کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
بحیثیتِ پرنسپل، ڈاکٹر باغ سراج صاحب ایک کامیاب، باصلاحیت، مخلص اور دوراندیش سربراہِ ادارہ تھے۔ انہوں نے انجمن کالج بھٹکل کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ایک کامیاب پرنسپل محض انتظامی امور انجام دینے والا سربراہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ادارے کی تعلیمی ترقی کا معمار، اساتذہ کے لیے مشعلِ راہ اور طلبہ کے روشن مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والا رہنما ہوتا ہے۔ مرحوم ڈاکٹر باغ سراج صاحب میں یہ تمام خوبیاں بدرجۂ اتم موجود تھیں، جن کی بدولت انجمن کالج کے معیارِ تعلیم میں نمایاں بہتری آئی۔
ان کی مثالی قیادت میں کالج کا تعلیمی ماحول بہتر ہوا، اساتذہ میں احساسِ ذمہ داری پروان چڑھا، طلبہ میں محنت اور حصولِ علم کا جذبہ بیدار ہوا اور نظم و ضبط ادارے کی پہچان بن گیا۔ مرحوم اساتذہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے، تدریسی طریقوں کو مؤثر بنانے، امتحانی نتائج بہتر کرنے اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کے لیے مسلسل کوشاں رہے۔
ڈاکٹر باغ سراج صاحب کی دوراندیشی، منصوبہ بندی اور محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ کالج نے تعلیمی معیار، امتحانی کارکردگی اور علمی سرگرمیوں کے اعتبار سے نمایاں ترقی کی۔ طلبہ بہتر نتائج حاصل کرنے لگے، والدین کا اعتماد بڑھا اور ہمارا یہ تعلیمی ادارہ معاشرے میں عزت و وقار کی نئی بلندیوں کو چھوتا رہا۔
کسی بھی تعلیمی ادارے کی حقیقی عظمت صرف اس کی عمارتوں اور وسائل میں نہیں، بلکہ اس کے علمی ماحول، اساتذہ کی کارکردگی اور طلبہ کی کامیابیوں میں مضمر ہوتی ہے۔ جو سربراہ اپنی صلاحیتوں، اخلاص اور قائدانہ بصیرت سے ان تمام پہلوؤں کو بہتر بناتا ہے، وہ یقیناً خراجِ تحسین کا مستحق ہوتا ہے۔ مرحوم ڈاکٹر باغ سراج صاحب بھی ایسی ہی قابلِ قدر شخصیات میں سے ایک تھے، جن کی خدمات نے انجمن کالج بھٹکل کی تعلیمی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
افسوس کہ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ ان کی رحلت سے ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں اور ان کی خدمات سے واقف تمام لوگوں کو یقیناً صدمہ پہنچا ہوگا۔ ان کی یادیں اور تعلیمی خدمات ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد کی جائیں گی۔
ان کی وفات کے احساس کو خاکسار کے اس شعر میں محسوس کیا جا سکتا ہے:

افسوس صد افسوس کہ مرحوم ہوا وہ
خوابیدہ قبر میں ہے وہ، معدوم ہوا وہ

موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر انسان کی حقیقی زندگی اس کے جانے کے بعد بھی اس کے اچھے اعمال، خدمات اور یادوں کی صورت میں جاری رہتی ہے۔ ڈاکٹر باغ سراج صاحب بھی ان شخصیات میں شمار کیے جانے کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ذریعے علم کی شمع روشن کرنے اور ایک تعلیمی ادارے کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کیا۔
مرحوم ڈاکٹر باغ سراج صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کی تعلیمی خدمات کو یاد رکھا جائے اور علم و تعلیم کے فروغ کے لیے ان کے اخلاص، محنت اور دوراندیشی سے سبق حاصل کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

 


(حنیف شاہ شبنم بھٹکلی)
موبائل : ⁦9886933573⁩

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


You May Like