
تعزیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو شخص کسی مؤمن بھائی کو مصیبت کے موقع پر تعزیت پیش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت و اکرام کا لباس پہنائے گا۔‘‘
(رواہ ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو عورت اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لئے کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، البتہ اپنے شوہر کے انتقال پر چار ماہ دس دن تک سوگ منائے۔‘‘
(رواہ البخاری)
تعزیت کا ثبوت سنتِ نبوی ﷺ سے بھی ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابۂ کرامؓ سے تعزیت فرمائی، صحابہؓ بھی ایک دوسرے سے تعزیت کیا کرتے تھے، اور اسی طرح تابعین اور تبع تابعین نے بھی اس پر عمل کیا۔ جمہور اہلِ علم تعزیت کے مشروع ہونے کے قائل ہیں اور اس کی مشروعیت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
میت کی تعزیت کرنا مسنون ہے۔ جب کسی شخص کے انتقال سے اس کے اہلِ خانہ اور متعلقین گہرے رنج و غم میں مبتلا ہوتے ہیں تو ایسے موقع پر ان کے غم میں شریک ہونا، ان سے ہمدردی کا اظہار کرنا اور انہیں تسلی دینا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔
تعزیت کے موقع پر مرحوم کی اچھی صفات اور خوبیوں کا تذکرہ کیا جائے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل کی تلقین کی جائے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنے کی ترغیب دی جائے۔ اس موقع پر مرحوم کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا بھی کی جائے۔
تعزیت کے یہ چند کلمات اہلِ خانہ اور متعلقین کے لیے بڑی ڈھارس کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے غم میں تنہا نہیں، بلکہ ان کے دکھ میں شریک ہونے والے اور ان کا غم بانٹنے والے بھی موجود ہیں۔ یہی احساس انسان کے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے اور اسے صبر و حوصلہ عطا کرتا ہے۔
اسی لئے اسلام نے مریض کی عیادت، مصیبت زدہ کی دل جوئی اور اہلِ میت سے تعزیت کو بڑی اہمیت دی ہے اور ان اعمال پر فضیلت بیان کی ہے۔ اسلام محض چند انفرادی عبادات کا دین نہیں، بلکہ وہ ایک اجتماعیت پسند دین ہے جو انسان کو خوشی اور غم، دونوں حالات میں تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے، باہمی ہمدردی کرنے اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی تعلیم دیتا ہے۔
تعزیت کے لئے تین دن کی مدت کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ جیسا کہ عام لوگوں میں یہ بات مشہور ہے۔ اگر آپ کسی بھی شخص کو کسی کی موت پر غم زدہ دیکھیں۔ تو کسی بھی وقت اس کی تعزیت کر سکتے ہیں۔
رہی وہ دلیل جس سے تین دن کی مدت پر استدلال کیا جاتا ہے، تو وہ دراصل بیوہ کے سوگ کے بارے میں ہے۔ شریعت نے عورت کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع کیا ہے، جبکہ شوہر کے انتقال پر چار ماہ دس دن تک سوگ منانے کا حکم ہے۔ اور ظاہر ہے کہ سوگ اور تعزیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
سوگ سے مراد نوحہ کرنا اور ماتم کرنا نہیں ہے۔ نوحہ اور ماتم جائز نہیں ہے البتہ رنج و غم کا اظہار کرسکتے ہیں
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’تعزیت کے لیے نہ کوئی مخصوص وقت ہے اور نہ مخصوص دن۔ بلکہ تدفین کے وقت اور اس کے بعد بھی تعزیت کرنا مشروع ہے۔ اگر مصیبت کی شدت زیادہ ہو تو جلد تعزیت کرنا بہتر ہے، اور میت کی وفات کے تین دن گزرنے کے بعد بھی تعزیت کرنا جائز ہے، کیونکہ تعزیت کو تین دن تک محدود کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔‘‘
(فتاویٰ اسلامیہ، 2/43)
جس کے گھر میں میت ہوجائے۔ وہاں کھانا پہنچانا مسنون ہے۔ کیونکہ اہل خانہ میت کے غم کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ تعزیت کرنے والوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں انھیں کھانا پکانے کی سہولت نہیں ہوتی ہے۔
اسلام نے اہلِ میت کی خاطر داری اور دل جوئی کے لئے ان کے گھر کھانا پہنچانے کی تعلیم دی ہے۔
ایسے موقع پر اہل میت کی دل جوئی کے لئے پڑوسی۔ رشتہ دار اور دوست و احباب کھانا تیار کرکے مرحومین کے گھر پہنچائیں
جب حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر مدینہ منورہ پہنچی۔ وہ سرزمینِ شام میں غزوۂ مؤتہ کے موقع پر شہید ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہلِ خانہ کو حکم دیا کہ آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’کیونکہ انہیں ایسی مصیبت پیش آئی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
الحمد للہ مسلمان ایسے مواقع پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اور کئی دنوں تک اہل میت کے گھر میں کھانا بھیجا جاتا ہے
یہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی اسلامی بہترین روایت ہے
سید محمد زبیر مارکیٹ بھٹکل

