
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو برطرف کیا جائے، ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے: مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل
23/ سپتمبر 2026 کو انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی چونکا دینے والی معلومات کی بنیاد پر صدرِ جمہوریہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے برطرف کریں اور ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا حکم دیں۔ یہ مطالبہ مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے کیا گیا ہے۔
خصوصی ووٹر لسٹ نظرثانی( اسپیشل انٹنسیو ریویژن ) کو مبینہ طور پر ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ایک غیر آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے پہلے ہی کئی مرتبہ یہ سنگین الزامات سامنے آ چکے تھے کہ اسے قانونی اختیار کے بغیر نافذ کیا جا رہا ہے۔ مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل کے مطابق، اب انڈین ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ نے ان الزامات کی تصدیق کر دی ہے۔
مجلس نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے حقِ رائے دہی کو متاثر کرنے والی اس مبینہ آئین مخالف اسپیشل انٹنسیو ریویژن کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔
جمہوریت میں ہر ووٹ انتہائی قیمتی ہے اور یہ ملک کے عوام کی حاکمیت کی علامت ہے۔ عوام کے حقِ رائے دہی کو غیر قانونی طریقے سے چھیننا ملک اور اس کے جمہوری نظام کے ساتھ بڑی غداری کے مترادف ہے، اس لیے مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل نے مطالبہ کیا ہے کہ گیانیش کمار کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی جائیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے حوالے سے
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، تین الیکشن کمشنروں میں سے دو، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے دس ماہ کے عرصے میں کم از کم 14 مرتبہ ایسے احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے، جو مبینہ طور پر ان کی معلومات یا رضامندی کے بغیر الیکشن کمیشن کے نام سے جاری کیے گئے تھے۔
یہ احکامات نئے ووٹروں کی رجسٹریشن، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے اور دوبارہ شامل کرنے، عدالتی حکام کی جانب سے بحال کیے گئے ووٹرز کے خلاف دائر اپیلوں اور ووٹر لسٹ کے انتظام سمیت مختلف اہم معاملات سے متعلق تھے۔
رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنر سندھو نے ایسے ہی ایک اقدام کو “غیر مجاز اور غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اعتراض درج کیا تھا۔
الیکشن کمشنر وویک جوشی نے بھی ریکارڈ میں درج کیا کہ قواعد میں ترمیم کیے بغیر فارم نمبر 6 میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے بعد ہی مذکورہ تبدیلی کی گئی، جبکہ کمشنر سندھو نے بھی اس پر اتفاق کیا تھا۔ متن کے مطابق یہ تبدیلی اب بھی نافذ ہے۔
دونوں الیکشن کمشنروں نے یہ بھی ریکارڈ کیا کہ ووٹر لسٹ کے ڈیٹا کو قانونی طور پر کنٹرول کرنے کا اختیار رکھنے والے مجاز حکام سے اسے ہٹا کر مرکزی سطح پر مرکوز کیا جا رہا ہے۔
مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل کا کہنا ہے کہ جب دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے اتنے اعتراضات موجود تھے تو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے مبینہ طور پر آئین مخالف، قانون مخالف اور عوام مخالف اقدامات کیوں کیے اور کس کے حکم پر کیے؟ اس کا جواب صرف ایک جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے ہی سامنے آ سکتی ہے۔
اسی لیے مجلس نے صدرِ جمہوریہ سے فوری مداخلت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مجلس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپیشل انٹینسو ریویژن کو فوری طور پر منسوخ کرکے پہلے سے موجود ووٹر لسٹوں کو بحال کیا جائے۔
اگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوری طور پر استعفیٰ نہیں دیتے تو ان کے خلاف فوری طور پر مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے۔
مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ 2023 کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری اور انہیں قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کرنے والے قانون کو منسوخ کیا جائے۔
گیانیش کمار کے دور میں الیکشن کمیشن کی جانب سے لیے گئے تمام فیصلوں اور کارروائیوں کی تحقیقات کی جائیں اور الیکشن کمیشن و انتخابی عمل کو مزید جمہوری بنایا جائے۔اس مقصد کے لیے تمام اہم اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنی چاہیے، ایسا بھی مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل نے کہا ہے
بیلگاوی اور بیدر کے حوالے سے الزام
متن کے مطابق، بیلگاوی اور بیدر ضلع کے بھالکی میں مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر غیر قانونی اور منصوبہ بند طریقے سے حذف کرنے کی کوشش سامنے آئی ہے۔
مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل نے اسے انتہائی جمہوریت مخالف اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔
کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

