
منڈگوڈ: ہیسکام کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر دھرم راج لوکایکت کے جال میں گرفتار
منڈگوڈ (کراولی نیوز بیرو ): کرناٹک کے ضلع اتر کنڑا کے منڈگوڈ قصبے میں محکمۂ بجلی (ہیسکام) کے ایک اعلیٰ افسر کو لوکایکت حکام نے مبینہ رشوت ستانی کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اس کارروائی کے بعد پورے علاقے میں اس واقعہ کی زبردست چرچا ہو رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ہیسکام سب ڈویژن منڈگوڈ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (اے ای ای) دھرم راج بیڈسگاؤں کے خلاف ایک برقی ٹھیکیدار شیو یوگی کودل مٹھ نے لوکایکت میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بی سی ایم (بیک ورڈ کلاسز ویلفیئر) ہاسٹل کی برقی تنصیبات سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کے بلوں اور متعلقہ معاملات کی منظوری کے لیے افسر کی جانب سے رقم کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد لوکایکت حکام نے منصوبہ بند کارروائی کرتے ہوئے منڈگوڈ کے ہیسکام دفتر میں چھاپہ مارا۔ ذرائع کے مطابق، دھرم راج مبینہ طور پر شکایت کنندہ سے 65 ہزار روپے بطور رشوت وصول کر رہے تھے کہ اسی دوران پہلے سے گھات لگائے بیٹھی لوکایکت ٹیم نے انہیں رنگے ہاتھوں دھر لیا۔
اس کارروائی میں کاروار اور دھارواڑ لوکایکت یونٹس کے افسران پر مشتمل دو خصوصی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ کارروائی کے بعد ملزم افسر کو تحویل میں لے لیا گیا اور معاملے سے متعلق مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
واقعہ کی خبر منظر عام پر آتے ہی منڈگوڈ اور اطراف کے علاقوں میں اس کی بڑے پیمانے پر بحث شروع ہو گئی۔ عوامی حلقوں میں سرکاری دفاتر میں بدعنوانی کے خلاف لوکایکت کی اس کارروائی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
لوکایکت حکام نے بتایا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ تاہم ابتدائی طور پر یہ کارروائی رشوت وصولی کی شکایت کی بنیاد پر انجام دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ کسی بھی ملزم کے خلاف عدالت سے جرم ثابت ہونے تک اسے قانونی طور پر بے قصور تصور کیا جاتا ہے، اور اس معاملے میں بھی مزید تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی حتمی حقائق سامنے آئیں گے۔
رپورٹ : کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

