
ڈیوڈ ڈیسوزا قتل کیس: پولیس نے شوٹر کو ٹانگ میں گولی مار کر گرفتار کرلیا
اُڈپی: کراولی نیوز بیرو ضلع اُڈپی کے کاپو تعلقہ کے مُدُرنگڈی بازار میں سابق روڈی شیٹر ڈیوڈ ڈیسوزا کے دن دہاڑے قتل کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعہ کے صرف سات گھنٹوں کے اندر مبینہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، 7 اگست کو سہ پہر تقریباً 3 بج کر 45 منٹ پر ڈیوڈ ڈیسوزا اپنے دفتر سے روانہ ہونے کے لیے کار میں سوار ہو رہے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے پیچھے سے آکر 9 ایم ایم پستول سے ان کے سر اور سینے پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے بعد دونوں ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تحقیقات تیز کردی۔ کاپو پی ایس آئی تیجسوی، کارکلا رورل پی ایس آئی پرسنّا اور بیندور پی ایس آئی مہیش کی قیادت میں تشکیل دی گئی پولیس ٹیم نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی اور تلاشی مہم شروع کی۔

اسی دوران ناکہ بندی کے دوران ایک بس میں چہرہ شال سے ڈھانپے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو پولیس نے دیکھا۔ تلاشی لینے پر اس کے موبائل فون میں مقتول ڈیوڈ کی تصویر مبینہ طور پر برآمد ہوئی۔ اس کے علاوہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں 50 ہزار روپے جمع ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ایک اور مشتبہ ملزم بھٹکل میں ملا، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ دونوں ملزمان کے اتر پردیش سے تعلق رکھنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کو حراست میں لے کر لے جایا جا رہا تھا کہ بیندور کے قریب ایک ملزم نے پولیس پر حملہ کرکے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس موقع پر کاپو پی ایس آئی تیجسوی نے اپنی سروس پستول سے مبینہ شوٹر راجو کی ٹانگ پر فائرنگ کرکے اسے قابو میں کرلیا اور گرفتار کرلیا۔
دوسری جانب پولیس کو شبہ ہے کہ قتل کی اس واردات میں دو کے بجائے تیسرا شخص بھی ملوث ہوسکتا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو افراد براہِ راست نظر آنے کے باوجود پولیس تیسرے ملزم کے ممکنہ کردار کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر مغربی زون کے آئی جی پی امیت سنگھ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ان کے دورے کے بعد ضلع ایس پی ہری رام شنکر سمیت اعلیٰ پولیس افسران نے کنداپور اور اطراف کے علاقوں میں قیام کرکے تحقیقات کی نگرانی شروع کردی ہے۔
پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ قتل کے محرکات، تیسرے ملزم کے ممکنہ کردار اور واردات میں استعمال ہونے والے ہتھیار کے بارے میں مزید معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔
رپورٹ : کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

