
رافعہ دامودی . ممبئ، بی ایم سی انتخاب
کم فرق کی شکست، عوامی اعتماد کی واضح جیت
ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابات مجگاوں حلقے سے کانگریس پارٹی کی امیدوار رافعہ دامودی نے چھ ہزار سات سو (6700) ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ بی جے پی کے امیدوار نے آٹھ ہزار دو سو (8100) ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ فتح و شکست کے درمیان محض پندرہ سو (1500) ووٹوں کا فرق رہا۔ رافعہ دامودی کی یہ کارکردگی حلقے میں عوامی اعتماد، مقبولیت اور مضبوط عوامی حمایت کی واضح عکاس ہے
ہم یہ بات پورے یقین اور دیانت کے ساتھ کہتے ہیں کہ رافعہ دامودی کو چھ ہزار سات سو ووٹ ملنا محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک مضبوط سیاسی پیغام ہے۔ یہ نتیجہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ممبئی کے مجگاؤں حلقے میں انہیں عوام کی قابلِ ذکر حمایت حاصل ہے اور حلقے کے رائے ہندگاران پر اعتماد کرتے ہیں۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان کے مقابل بی جے پی کی امیدوار ایک نہایت بااثر، تجربہ کار اور صاحبِ اقتدار پس منظر رکھنے والا شخص تھا، جو اس سے قبل ایم ایل اے بھی رہ چکا ہے۔
مزید یہ کہ
۔ چونکہ بی جے پی اس وقت مرکز اور ریاست میں اقتدار میں ہے، اس لیے اسے تنظیمی طاقت، وسائل میڈیا کی تائید اور بیوروکریسی کا اثر و رسوخ
کی وہ سہولتیں بھی حاصل ہیں جو ایک عام امیدوار کے لیے دستیاب نہیں ہوتیں
۔ ایسے حالات میں انتخابی میدان میں ڈٹ کر کھڑا ہونا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج تھا۔
اس کے باوجود رافعہ دامودی نے جس جرات، حوصلے اور وقار کے ساتھ مقابلہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ اگر انتخابی مہم میں مزید تسلسل اور منظم محنت جاری رہتی تو کامیابی کا فاصلہ اور بھی کم ہو سکتا تھا، بلکہ جیت کے امکانات پوری طرح قریب آ سکتے تھے۔ ایک طاقتور اور بااثر امیدوار کے سامنے چھ ہزار سات سو ووٹ حاصل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام نے شخصیت، خدمت اور نیت کو اہمیت دی۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ یاسر دامودی جو رافعہ دامودی کے برادرِ اصغر ہیں مجگاوں علاقے کے ایک معروف سماجی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی سماجی خدمات، عوامی رابطہ اور مثبت اثر و رسوخ اس خاندان کی عوامی وابستگی اور خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نتیجہ کسی بھی طور محض شکست نہیں بلکہ ایک مضبوط بنیاد ہے۔ کم فرق سے ہونے والی یہ ہار دراصل ایک باوقار جیت ہے، جو یہ پیغام دیتی ہے کہ مجگاوں کے عوام بیدار، باشعور اور اپنی نمائندگی کے انتخاب میں سنجیدہ ہیں۔
ایسے مواقع پر یہ حقیقت یاد رکھنا ضروری ہے کہ الیکشن ایک مرحلہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔
پہلی بار امیدوار سیکھنے اور اپنی پہچان بنانے کے لیے میدان میں اترتا ہے۔
دوسری بار وہ مخالف کو چیلنج کرنے اور ووٹ بینک کی سمت بدلنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔
اور تیسری بار تجربے، اعتماد اور عوامی حمایت کے ساتھ جیت کے قریب پہنچتا ہے۔
تاہم رافعہ دامودی نے پہلی ہی بار میں ایسا مضبوط اور مؤثر مقابلہ پیش کیا کہ مخالف کو اپنی پوری قوت آزمانا پڑی، اپنے حریف کو سنجیدہ چیلنج دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ انتخابی سیاست میں پوری صلاحیت اور اعتماد کے ساتھ موجود ہیں ، پہلی ہی انتخابی آزمائش میں انہوں نے حوصلے، محنت اور مؤثر عوامی رابطے کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ وہ آئندہ سیاست میں ایک مضبوط، سنجیدہ اور قابلِ اعتماد چہرہ بن کر ابھری ہیں
صبر، استقامت اور تسلسل — یہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
اسی تسلسل میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ شکست انجام نہیں، بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے۔ جو لوگ ہارے ہیں، وہ ناکام نہیں ہوئے — وہ سیکھ کر، تجربہ حاصل کر کے اور خود احتسابی کے جذبے کے ساتھ لوٹے ہیں۔ شکست یہ سکھاتی ہے کہ کہاں کمی رہ گئی، کہاں مزید محنت درکار ہے، اور عوام کی نبض کو کس طرح بہتر طور پر سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی کامیابی کے پس منظر میں کئی وقتی ناکامیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔
حوصلہ نہ ہارا جائے، میدان نہ چھوڑا جائے،
کیونکہ جو ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹا رہتا ہے،
وہی ایک دن کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ان شاء اللہ، یہی عوامی اعتماد، یہی محنت اور یہی تسلسل آنے والے وقت میں رافعہ دامودی اور یاسر دامودی کے لئے ایک مثبت اور مضبوط تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
رپورٹ کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

