
سید محمد زبیر مارکیٹ ( کراولی نیوز بیرو بھٹکل ) 8 اگست بروز جمعہ
دبئی جماعت کی ڈاکومنٹری تاثرات
بھٹکل جماعت دبی کی پچاس سالہ ڈاکومنٹری رابطہ ہال بھٹکل میں دکھائی گئی، حاضرین ہمہ تن گوش ہو کر ساری تفصیلات سن رہے تھے، لوگ دیکھتے میں ایسے محو تھے کوئی اپنی جگہ سے معمولی حرکت بھی نہیں کر رہا تھا، ڈاکومنٹری واقعی بڑی جاذب نظر تھی، پیش کرنے کا انداز دل کو موہ لینے والا تھا، جماعت کے کارنامے بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کئے گئے،
ہماری کمیونٹی کے لئے جماعت نے بہت کچھ کیا، پچاس سال دبئی جماعت کے گزر گئے، کئی چہرے وہ اس ڈاکومنٹری کو دیکھنے کے لئے موجود نہیں تھے، کئی چہرے جو اس وقت جوان تھے، جب وہ یہ ڈاکومنٹری دیکھ رہے تھے ان کے بالوں میں سفیدی آگئی تھی، کئی تازہ دم چہرے جو اسکرین پر موجود تھے ان کے چہروں پر جھریاں پڑ گئیں تھیں، کئی لوگ اس اسکرین پر اپنے آپ کو تلاش کر رہے تھے، ہوسکتا ہے کچھ لوگوں اپنی غیر موجودگی کو اسکرین پر دیکھ رہے تھے ، کچھ لوگوں کو ان کی خدمات پر ایوارڈ دیا جا رہا تھا، اور کچھ لوگ مرحومین کی طرف سے ایوارڈ سے وصول کر رہے تھے اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے
کتنے لوگ جو خدمت کرتے ہیں مگر وہ روپوش رہتے ہیں، اور کتنے نمایاں ہوتے ہیں
کتنے بڑے بڑے لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، بڑے بڑے تعزیتی اجلاس۔منعقد ہوتے ہیں، ان کے عظیم کارنامے گنائے جاتے ہیں، ہزاروں لوگ ان کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں، پھر لوگ ان کو بھول جاتے ہیں، اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایسے مشغول ہو جاتے ہیں، جیسے اس شخصیت کا کوئی وجود ہی نہ ہو، کچھ لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، لگتا ہے کوئی بڑا حادثہ پیش آیا ہو، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، کوئی ہمدرد غمخوار اٹھ گیا ہو سر پر سے کسی کا سایہ چلا گیا ہو، کوئی بیوہ اس کے انتقال پر اپنے پلو سے آنسو پونچھ رہی ہو، لوگ اپنی ہر نماز کے بعد اس کے لئے دعائیں طلب کرتے ہیں، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے انتقال پر لوگ خوش ہوتے ہیں مجھے ایک شخص نے بتایا ایک شخص کا انتقال ہوا اس کے ماتحت ملازم نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اس کی آنکھیں نم تھیں اس نے کہا رب کریم تیرا بڑا احسان ہے تو نے اس شخص کو اٹھا لیا اس نے ہمارے حقوق چھین لئے، رب کریم اس شخص نے ہمارا جینا دوبھر کر دیا تھا، ہم اس دنیا میں ہی دیکھیں ہم کس زمرہ میں شمار ہوں گے، آج بھی ایسے لوگ ہیں، جن کو لوگ دنیا میں مرنے کی دعا دیتے ہیں، خس کم جہاں پاک
اور کتنے لوگ ایسے ہیں جن کی عمر درازی کی دعائیں مانگی جاتی ہے،
دنیا میں کتنے ایوارڈ اور تمغے ملیں، مگر اصل کامیابی قرآن نے جو بیان فرمائی وہ ہے “جو آتش دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی اصل کامیاب ہے”
کتنے لوگ درحقیقت اپنی زندگی قومی و ملی خدمات کے لئے وقف کرتے ہیں مگر وہ گمنامی کی زندگی گزارتے ہیں اور کچھ لوگ جو دوسروں کی خدمات کا صلہ بھی اپنے ذمہ لیتے ہیں، بعض شخصیات اداروں پر غالب آجاتی ہیں ان کے اشاروں پر ادارے چلتے ہیں، یہ ایک قومی سانحہ ہے، جہاں حق بات کہنے سے لوگ ڈرتے ہوں، اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی خوشنودی چاہتے ہوں،
انسان جو بھی خدمت کرے، اللہ کی رضا کے لئے کرے، اللہ کے پاس جو اعزاز ملے گا، اس سے بڑا کیا اعزاز ہوسکتا ہے۔
بھٹکل مسلم جماعت دبی نے پچاس سال کی مدت میں کافی خدمات انجام دیں ہیں، دبی میں مقیم ہماری برادری کو روزگار فراہم کیا، ان کی مشکلات میں مدد کی، میت کی تدفین کے سلسلے میں جلد از جلد کاروائی کرکے اہل خانہ کو راحت پہنچائی، ان کے جنازوں میں کثیر تعداد میں شرکت کرکے یہ ثابت کر دیا کہ یہ جنازہ دیار غیر کا نہیں بلکہ اپنے وطن سے آٹھ رہا ہوں، ہزاروں لوگوں کو آسان قرض فراہم کئے، دبی میں مقیم مستحق افراد کے اہل خانہ کے بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا، اعلی تعلیم حاصل کرنے والوں کی امداد کی، مساجد، مدارس، اداروں کو مالی امداد فراہم کی، جس سے ہمارے تعلیمی ادارے مدارس، اور مرکزی ادارے مضبوط ہوگئے،
فطرہ کی اجتماعی تقسيم کو مدد پہنچانے میں دبی جماعت کا اہم رول ہے دبی جماعت کی خدمات کی فہرست طویل ہے، دبی جماعت اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے، وہ کسی دباؤ میں نہ رہے، اور نہ ہی اس کا انشاءاللہ اس کا امکان ہے، یہ تعلیم یافتہ افراد کا پلیٹ فارم ہے،
کتنے لوگ جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، بڑی قد آور شخصیات تھیں، ہم ان کی قدر نہیں کرسکے، خصوصی طور پر جناب صدیق جعفری مرحوم اور جناب سید خلیل الرحمٰن صاحب سی اے ملکی سطح پر ان کی پہچان تھی
اللہ تعالی تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے
سید محمد زبیر مارکیٹ

