کرناٹک میں مدارس اور اردو/ کنڑا اسکولوں کے بارے میں بڑی تبدیلی
: ریاستی حکومت- وزیر اعلی سدارامیا نے اعلان کیا ہے
900 مدارس اور اردو/ کنڑا اسكول اب کرناٹکا پبلک اسکولز کے ماڈل کے تحت جلائے جائیں گے
اس فیصلے کے بڑے نکات
1.: مدارس میں کنڑا زبان کی تعلیم لازمی/ ترجیح ہوگی حکومت چاہتی ہے کہ ریاست میں رہنے والے طلبہ مقامی زبان سے جڑیں, اس لیے کنڑا کو نصاب میں مضبوط کیا جائے گا.-
اسکولوں کو جدید تعلیم کے ماڈل میں بدلا جائے گا ان اداروں میں شامل ہوں گے.:. 2
اسمارٹ کلاس رومز، کمپیوٹر لیب، ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم، بہتر انفراسٹرکچر یہ سب کرناٹکا پبلک اسکول کے معیار کے مطابق ہوگا-
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم تعلیمی بہتری کے لیے ہے ریاستی حکومت کا موقف ہے کہ اس اصلاح سے.:. 3
غریب بچوں کو بہتر سرکاری تعلیم ملے گی، مدارس کے بچوں کو جدید تعلیم تک رسائی ملے گی،اور زبان کی رکاوٹ کم ہوگی-
اپوزیشن کی بعض جماعتوں اور افراد کی تنقید، کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ: 4.
مدارس کی شناخت بدلنے کی کوشش ہے، زبان کے مسئلےکو سیاسی بنایا جا رہا ہے لیکن حکومت اس کی تردید کرتی ہے-
ریاست میں اردو زبان کے معاملے پر تنازع : ⭐
حالیہ ہفتوں میں ایک اور بحث اس وقت شروع ہوئی جب کچھ لوگوں نے بیدر منسپلٹی سے اردو نیم پلیٹ ہٹانے کا مطالبہ کیا- اس بحث سے بھی لسانی اور سماجی جذبات میں ہلچل پیدا ہوئی-
سیاسی پہلو : ⭐
ریاست میں لسانی سیاست ایک حساس مسئلہ ہے- وزیراعلی سدارا میا نے کہا ہے کہ یہ قدم تعلیمی بہتری کے لیے ہے سیاست کے لیے نہیں-
دوسری طرف بی جے پی نے اسے “فرقہ وارانہ ماحول” پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے-
خلاصہ 📌
کرناٹک حکومت مدارس اور اردو/ کنڑا اسکولوں کو جدید بنانے کے لیے بڑا قدم اٹھا رہی ہے- یہ فیصلہ جہاں کچھ لوگوں کے لیے خوش ائین ہے, وہیں کچھ طبقے اسے شناختی اور لسانی مداخلت کے طور پر دیکھ رہے ہیں-
رپورٹ کراولی نیوز نیٹ ورک بیرو بھٹک

