
ہندو سماج متحد ہو جائے تو دنیا احترام کرے گی: اننت کمار ہیگڑے
بھٹکل: سابق رکنِ پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڑے نے کہا ہے کہ اگر ہندو سماج متحد ہو کر کھڑا ہو جائے تو اس میں اتنی طاقت ہے کہ پوری دنیا اس کا احترام کرے گی۔ انہوں نے یہ بات شہر کے پرانے بس اسٹینڈ کے قریب واقع عوامی چبو ترا میدان میں منعقدہ ہندو سنگم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ چند افراد کی جانب سے شروع کی گئی تنظیم آج ایک بڑے عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے اور معاشرے میں بیداری پیدا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی قدیم روایات جیسے یوگا اور آیوروید آج پوری دنیا میں مقبول ہو رہی ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کی عالمی سطح پر اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اننت کمار ہیگڑے نے کہا کہ خود کو کمزور یا پسماندہ سمجھنے کا احساس دراصل غلامی کی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ اس لیے اس ذہنیت کو ترک کر کے خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔
انہوں نے ہندو سماج کے اندر پائے جانے والے چھوٹے موٹے اختلافات کو ختم کر کے اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں حسد اور رقابت کو چھوڑ کر سب کی بھلائی کے بارے میں سوچنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے تاکہ سماجی ہم آہنگی مضبوط ہو سکے۔
اس موقع پر آشیروچن دیتے ہوئے موہن داس پرمہنس سوامی جی نے کہا کہ “ہندو” لفظ اور بھگوا دھوج میں بے پناہ طاقت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طاقتوں نے صدیوں تک اس ملک کو لوٹا، لیکن اس کے باوجود ہندو ثقافت اور قوم کے وجود کو ختم نہیں کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی ثقافت نے پوری دنیا پر اپنا گہرا اثر چھوڑا ہے اور سوامی وویکانند جیسے عظیم مفکرین نے ہندوستانی اقدار اور فلسفے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں جب معاشرے میں مختلف سماجی برائیاں بڑھ رہی ہیں، تو ضروری ہے کہ لوگ اپنی کمزوریوں کو دور کر کے متحد ہوں اور مذہبی میدان میں پھیل رہی غلط فہمیوں کو ختم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہندو دھرم ایسا مذہب ہے جو سب کی بھلائی کی بات کرتا ہے اور معاشرے میں ہم آہنگی، اخلاقی اقدار اور انسانی قدروں کو برقرار رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔
اس پروگرام سے قبل شہر میں ایک شاندار شوبھا یاترا بھی نکالی گئی۔ اس جلوس میں مختلف جھانکیاں، خواتین کے بھجن گروپ، پورن کمبھ کے ساتھ استقبال اور چھوٹے بچوں کی مختلف بھیس بھوشائیں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔ جلوس شہر کی اہم سڑکوں سے گزرا اور مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں شریک ہو کر اس کا پرجوش استقبال کیا۔
پروگرام میں شری دھر نائک نے ابتدائی خطاب کیا، پویترا نائک نے گیت پیش کیا، استاد نارائن شیرور نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ سریندر پجاری نے شکریہ ادا کیا۔
رپورٹ کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

