
9 April 2026 Thursday
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا آغاز، لیکن اسرائیل کے حملے جاری۔
لبنان میں اسرائیل کی بدترین بمباری؛ 250 سے زائد افراد جاں بحق، حزب اللہ کا راکٹوں سے جوابی حملہ۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دوبارہ بند کرنے کی دھمکی؛ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ۔
صدر ٹرمپ کا سخت بیان: “جب تک حقیقی معاہدہ نہیں ہوتا، امریکی فوج ایران کے قریب تعینات رہے گی۔”
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں آج ایک اہم موڑ آیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق تو ہو گیا ہے، لیکن میدانِ جنگ میں امن کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی-
لبنان میں اسرائیل کی بڑی کارروائی:
گزشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت، وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زائد ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق، ان حملوں میں کم از کم 254 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کے میزائل لانچرز اور کمانڈ سینٹرز کو تباہ کرنے کے لیے کیے گئے ہیں-
ایران کا ردعمل اور آبنائے ہرمز:
اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ لبنان پر حملہ ایران پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ کشیدگی کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ بند کرنے کے اشارے دیے ہیں، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے-
امریکی موقف اور ٹرمپ کی دھمکی:
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران کے ساتھ کوئی ٹھوس اور “حقیقی معاہدہ” نہیں ہو جاتا، امریکی افواج خطے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے شرائط کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی-
حزب اللہ کے حملے: اسرائیل کے حالیہ حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے علاقوں پر درجنوں راکٹ فائر کیے ہیں۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک: اطلاعات کے مطابق ایران نے سعودی عرب کی آئل پائپ لائنز کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جس سے خطے میں دفاعی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی انتہائی نازک ہے اور کسی بھی وقت بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ عالمی طاقتیں اس کوشش میں ہیں کہ اس دو ہفتوں کے وقفے کو مستقل امن میں بدلا جا سکے، مگر اسرائیل اور ایران کے سخت بیانات اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں-

