
بنگلورو میں غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر کارروائی
حکومت کا سخت پیغام، تجاوزات کے خلاف مہم تیز
سیاسی حلقوں میں بحث، شہریوں کی ملی جلی رائے
بنگلورو، 3 جنوری: ( کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل )
کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلدیہ اور ریاستی حکومت کی جانب سے جاری بلڈوزر کارروائی میں تیزی آ گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں سرکاری زمین، نالوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر بنائی گئی ناجائز عمارتوں اور دکانوں کو منہدم کیا گیا، جس سے شہر بھر میں ہلچل مچ گئی ہے۔
بلدیہ حکام کے مطابق یہ کارروائی عدالتی احکامات اور شہری منصوبہ بندی کے قوانین کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے باعث نکاسیٔ آب کا نظام شدید متاثر ہو رہا تھا، جس کے نتیجے میں بارش کے موسم میں کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل پیدا ہو رہے تھے، جب کہ ٹریفک جام بھی روزمرہ کا مسئلہ بن چکا تھا۔
نوٹس کے بعد کارروائی
حکام نے واضح کیا ہے کہ بلڈوزر کارروائی سے قبل متعلقہ افراد کو قانونی نوٹس جاری کیے گئے تھے اور تجاوزات خود ہٹانے کے لیے مناسب وقت بھی دیا گیا، تاہم مقررہ مدت میں عمل نہ ہونے پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
سیاسی ردِعمل
اس کارروائی پر سیاسی ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بعض رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس مہم میں غریب دکاندار اور چھوٹے کاروباری افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس درمیان کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے کہا کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے اور قانون کے دائرے میں رہ کر مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔
حکومت کا مؤقف
ریاستی حکومت نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ یہ کارروائی کسی خاص طبقے کے خلاف نہیں بلکہ صرف غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے ہے۔ حکومت کے مطابق شہر کو منظم اور محفوظ بنانا اولین ترجیح ہے اور آئندہ دنوں میں بھی تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی۔
عوامی رائے
جہاں ایک طبقہ اس اقدام کو شہر کی بہتری کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے، وہیں متاثرہ افراد نے حکومت سے متبادل انتظامات اور انصاف کی اپیل کی ہے۔
