“جنگل باسیوں کا بڑا اعلان: 6 دسمبر کو تیس ہزار اعتراضاتی درخواستیں ڈپٹی کمشنر کو سونپی جائے گی”

بھٹکل: جنگلاتی حقوق کی بیداری مہم کے تحت ضلع بھر کے حقیقی جنگل باسیوں کی جانب سے 6 دسمبر کو کاروار میں منعقد ہونے والے عظیم کنونشن کے دوران ڈپٹی کمشنر کو تیس ہزار سے زائد اعتراضاتی درخواستیں پیش کی جائیں گی۔ یہ اطلاع جنگلاتی زمین کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے پلیٹ فارم کے صدر رویندرا نائک نے دی۔

بھٹکل تعلقہ کے بیلکے گرام پنچایت حدود میں واقع بھنٹگوڈ مہاستی مندر کے احاطے میں ’’قانونی بیداری پروگرام‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگلاتی حقوق ایکٹ (FRA) کے ناقص نفاذ کے سبب ہزاروں مستحق جنگل باسی زمین کے اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔ اسی ناانصافی کے خلاف عوام میں قانونی شعور بڑھانے کی غرض سے یہ ریاست گیر ’’قانونی بیداری جاتھا‘‘ منعقد کیا جا رہا ہے۔

رویندرا نائک نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کئی فاریسٹ رائٹس کمیٹیاں جنگل باسیوں کی فائلیں بنا کسی مناسب جانچ کے مسترد کر رہی ہیں، جو نہایت قابلِ مذمت اور قانون کے صریح خلاف ہے۔ مزید برآں، درخواستوں کی ازسرنو جانچ سے قبل ہی محکمہ جنگلات کی جانب سے یکطرفہ کارروائی (Eviction Process) شروع کیا جانا قابل قبول نہیں۔

آج بھٹکل تعلقہ کے یلوڈیکاوور، مٹّلی، کونار، ہادوولی اور ماروکےری پنچایت حدود میں ’’قانونی بیداری جاتھا‘‘ کے پروگرام کامیابی سے منعقد ہوئے۔

پروگرام کے کنوینر پانڈو نائک بیلکے نے استقبالیہ کلمات ادا کیے جبکہ دیواراج گونڈ نے ابتدائی گفتگو کی۔ اس موقع پر چندرا نائک، رام نائک شیرجّیمنے، شنکر نائک بھٹکل، گِریجا موگیر بیلکے، وملا موگیر، ناگمّا موگیر، ناراےن گورٹے، لکشمی شیرجّیمنے، ناراےن شنیار، کُپّیّا نائک، منجپّا مُڈگارمنے، وینکٹ، سبّرایا کٹگیری، جوگی شیرجّیمنے، چندرو سومپا نائک، رتنا نائک اور دیگر حضرات موجود رہے۔

غیر قانونی مطالبات کی شدید مذمت

پریس نوٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگل باسیوں سے ’’تین پشتوں کا ثبوت‘‘ طلب کرنا مکمل طور پر غیر قانونی، غیر سائنسی اور غیر انسانی عمل ہے۔ مطالبہ کیا گیا کہ اس شرط کو فوری طور پر ختم کر کے جنگلاتی حقوق کی منظوری صرف قانونی اور ساندربھک (Contextual) دستاویزات کی بنیاد پر دی جائے۔

پریس نوٹ کے آخر میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ 6 دسمبر کے کاروار کنونشن میں بڑی تعداد میں شرکت کریں تاکہ جنگل باسیوں کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد کو مضبوط کیا جا سکے۔

رپورٹ کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


Next Post

🌟 ’’این ایس ایس — خدمت، نظم و ضبط اور شخصیت سازی کی درسگاہ‘‘ 🌟

’’نظم و ضبط کا سبق این ایس ایس سے ہی سیکھا جا سکتا ہے‘‘ — ایم وی ہیگڈے کرناٹک یونیورسٹی اور این ایس ایس کوش دھارواڑ کے اشتراک سے آر این ایس فرسٹ گریڈ کالج مرڈیشور کی این ایس ایس یونٹ کا سالانہ خصوصی کیمپ شری والی ہائی اسکول، چترپور […]

You May Like