ایک حادثہ، دو جانیں، بے شمار آنسو ایک لمحے کی لاپرواہی — ایک پوری زندگی کا نقصان

 

ایک حادثہ، دو جانیں، بے شمار آنسو
ایک لمحے کی لاپرواہی — ایک پوری زندگی کا نقصان

آج ہمیں ایک نہایت افسوس ناک اور دل دہلا دینے والی خبر سننے کو ملی۔ سڑک کے ایک المناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے دو کم عمر لڑکے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ نوجوانی کی دہلیز پر تھے، زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے، مگر چند لمحوں کی نادانی، تیز رفتاری اور لاپرواہی نے ان کے خواب، خاندان کی امیدیں اور محلے کی خوشیاں ایک ہی پل میں چھین لیں۔
یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی المیہ ہے۔
امتحان کی تاریخ قریب تھی ،
وہ ہاتھ جن میں کتاب ہونی چاہیے تھی، اُن میں کار کی اسٹیئرنگ تھی—وہ بھی رات کے وقت، سنسان سڑک پر۔ جہاں پر روشنی کا انتظام بھی میسر نہیں تھا
ایک لمحے کی غفلت نے ایک دومعصوم زندگی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

چند لمحوں کی لاپرواہی نے والدین کا سہارا، باپ کا فخر اور ایک خاندان کی مسکراہٹیں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ یہ دو نوجوان، جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ ہی رہے تھے، ایک المناک حادثے کے نتیجے میں ان کی زندگیوں کے چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو گئے
یہ دو جانوں کا نقصان صرف ان کے اہلِ خانہ کے لیے ہی ناقابلِ تلافی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ ہے۔ ماں کی آنکھوں کے آنسو، باپ کا ماتم اور دوستوں کی خاموشی—یہ سب اس حادثے کی اصل قیمت بیان کرتے ہیں ،

اسکول اور کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے نوجوان ابھی دنیا کو پوری طرح دیکھ بھی نہیں پاتے کہ رفتار، جوش اور نادانی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین کی بے جا محبت، مہنگے موبائل، قیمتی بائک یا کار، اور موبائل فون پر غیر ضروری مواد—یہ سب مل کر نوجوانوں کو ایک خطرناک راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ بے جا لاڈ و پیار اور مناسب نگرانی کے فقدان کے باعث نوجوان یا تو رفتہ رفتہ بگڑنے لگتے ہیں، یا پھر یہی لاپرواہی اکثر المناک حادثات اور ناقابلِ تلافی نقصانات کا سبب بن جاتی ہے
تیز رفتار سواری
یہ بچے گاڑی کی سواری نہیں کرتے
بلکہ اپنی زندگی کی ڈور کو تیز رفتاری کے شکنجے میں جکڑ لیتے ہیں۔
ایک معمولی جھٹکا، ایک لمحے کی غلطی—اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔
گھر میں خاموشی چھا جاتی ہے، ماں کے آنسو نہیں تھمتے، اور والدین کی مسکراہٹ ہمیشہ کے لیے ماند پڑ جاتی ہے۔
اکثر والدین کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے بچے
کب جا رہے ہیں
کہاں جا رہے ہیں، کیوں جا رہے ہیں اور کن لوگوں کے ساتھ ہیں۔ دوستوں کے ساتھ تیز رفتا ر گاڑی میں گھومنا پھرنا، تفریح کرنا، پکنک منانا یا ہوٹلوں میں کھانا کھانا آہستہ آہستہ روزمرہ کا معمول بنتا چلا جاتا اور نتیجہ اکثر المناک حادثات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں تیز رفتاری کی وجہ سے کتنی ہی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ یہ واقعہ پہلا نہیں،
افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض والدین انہیں روکنے کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں۔

آج کی نئئ نسل تیز رفتار سواری ایسے جوش و خروش کے ساتھ کرتی ہے گویا کسی عالمی سطح کی ریس کی مشق ہو رہی ہو۔ کاش یہی جذبہ کسی مثبت اور تعمیری سرگرمی میں صرف کیا جاتا تو نہ صرف انعام حاصل ہوتا بلکہ نیک نامی بھی میسر آتی۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوجوان گاڑی کے قابو میں نہیں ہوتے، بلکہ گاڑی ہی ان پر غالب آ جاتی ہے
رفتار اس قدر تیز ہوتی ہے کہ قریب سے گزرنے والوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں، گھروں میں محوِ خواب لوگوں کی نیند خراب ہو جاتی ہے، اور ذرا سا توازن بگڑنے پر کوئی بڑا حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔
معاشرے میں جس سے بھی اس معاملے پر گفتگو کی جائے، وہ اس رجحان کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر اس کے باوجود تیز رفتار سواری کی اس روش کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اور سنجیدہ قدم اٹھاتا ہوا نظر نہیں آتا
ستم یہ ہے کہ بعض والدین بچوں کی ضد یا فرمائش پر انہیں مہنگی سے مہنگی گاڑی خوشی خوشی خرید کر دے دیتے ہیں، گویا سڑکوں اور شاہراہوں کو تختۂ مشق بنانے کی اجازت دے رہے ہوں،
کوئی بھی ماں یا باپ یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ ان کا بچہ گھر سے تو صحیح سلامت نکلے مگر واپس نہ لوٹے۔ اس کے باوجود گاڑی دیتے وقت نہ تو مناسب تنبیہ کی جاتی ہے اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سواری صحیح اور محفوظ طریقے سے استعمال ہو رہی ہے یا نہیں۔
افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ جب برادرانِ وطن مسلم نوجوانوں کو تیز رفتار سواری یا خطرناک حرکات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس کا اثر محض فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے بارے میں ایک منفی تاثر قائم ہو جاتا ہے۔ یہ تاثر وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر کسی حادثے میں مسلم نوجوان کی کوئی براہِ راست غلطی نہ بھی ہو تب بھی الزام سب سے پہلے اسی پر عائد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
خدارا! اس سنگین صورتحال پر سنجیدگی سے غور کیجیے۔ قوم کے نوجوانوں کو روکا اور سمجھایا جائے کہ بائک بازی میں نہ صرف جسمانی اور مالی نقصان ہے بلکہ قوم و ملت کی شبیہ بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ صرف اپنے اہلِ خانہ ہی کے لیے قیمتی نہیں بلکہ پوری قوم اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان کی توانائی کو مثبت اور تعمیری راستوں پر لگایا جائے
جس کی تربیت، نگرانی اور درست رہنمائی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے
اس سرمائے کو کھیل تماشے اور لمحاتی جوش میں ضائع کرنا کسی طور دانشمندی نہیں
آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند فرمائے،
ان کے والدین اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،
اور ہمیں اتنی سمجھ اور ہمت دے کہ ہم اپنی اور دوسروں کی اولاد کو محفوظ رکھ سکیں، آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


Next Post

سیاسی دباؤ میں متنازعہ کدرا کیس: کارکردگی دکھانے والے پی ایس آئی سنیل بندیوڈّر کی معطلی پر سوالات

  جرائم کے معاملات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے پی ایس آئی سنیل بندیوڈّر معطل سیاسی دباؤ کے درمیان کدرا کیس پر شدید بحث کاروار: اپنی تفتیشی مہارت سے کئی سنگین جرائم کے معاملات حل کر کے نام کمانے والے کدرا پولیس تھانے کے پی ایس آئی سنیل بندیوڈّر کو […]

You May Like