نوائط کالونی قبرستان میں قبروں کی حالت بدل دی گئی؟

 

بھٹکل: 23 مئی 2026 بروز سنیچر نوائط کالونی قبرستان میں قبروں کو ہموار کرنے پر عوام میں تشویش، حقیقت جاننے کے لیے عوامی سوالات تیز

بھٹکل کے ملیہ مسجد کے سامنے واقع نوائط کالونی قبرستان سے متعلق ایک ویڈیو کل سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہوئی، جس کے بعد عوام میں بے چینی اور کئی سوالات نے جنم لیا۔ اسی سلسلے میں حقیقت جاننے کے لیے آج ایڈیٹر کراولی نیوز نیٹ ورک نے موقع پر پہنچ کر جائزہ لیا، جہاں دیکھا گیا کہ قبرستان کے ایک بڑے حصے میں قبروں کے اوپر مٹی ڈال کر زمین کو ہموار کیا گیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق اب تک تقریباً ایک چوتھائی حصے میں موجود قبروں کی ظاہری شناخت مٹ چکی ہے، جس کی وجہ سے اپنے مرحوم عزیزوں کی قبریں تلاش کرنا لوگوں کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔ خاص طور پر جمعہ کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں لوگ قبرستان پہنچتے ہیں، اپنے والدین، رشتہ داروں اور عزیزوں کی قبروں پرجاکر مرحومین کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ یہ روایت صدیوں سے جاری ہے اور عوام کے جذبات اس سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

آج بھی جب نمازِ جمعہ کے بعد نمازی قبرستان پہنچے تو کئی افراد اپنی عزیزوں کی قبریں تلاش کرتے نظر آئے، مگر قبروں کے اوپر مٹی ڈال کر زمین کو اس انداز میں برابر کیا گیا تھا کہ قبر کی پہچان کرنا دشوار ہوگیا۔ اس صورتحال نے عوام میں شدید تشویش اور افسوس پیدا کردیا۔

عوام کا کہنا ہے کہ قبرستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ یہ مرحومین کی آخری آرام گاہ اور زندہ لوگوں کے جذبات، یادوں اور عقیدت کا مرکز ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی انتظامی ضرورت یا تعمیراتی کام کے تحت کوئی قدم اٹھایا جائے تو اس سے پہلے عوام کو اعتماد میں لینا، شریعت اور سماجی حساسیت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔

مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر قبروں کو اس طرح ہموار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اس سلسلے میں علماء، ذمہ دارانِ مسجد اور عوامی نمائندوں سے مشورہ کیا گیا تھا؟ اور کیا متبادل طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا تھا جس سے قبروں کی شناخت برقرار رہتی؟

عوام نے قبرستان کمیٹی اور متعلقہ ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی وضاحت عوام کے سامنے لائی جائے، اور جن قبروں پر مٹی ڈال کر انہیں ہموار کیا گیا ہے، ان کی سابقہ حالت بحال کرنے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور مرحومین کے احترام کو برقرار رکھا جاسکے۔

عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں جلد بازی یا لاپروائی معاشرے میں بے چینی پیدا کرسکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ دور اندیشی، مشاورت اور ذمہ داری کے ساتھ لیا جانا چاہیے۔

اللہ رب العزت ہم سب کو صحیح اور غلط میں فرق سمجھنے، مرحومین کے احترام کو برقرار رکھنے اور بہتر سوچ کے ساتھ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

رپورٹ: کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


Next Post

بھٹکل میں ہولناک سانحہ: کَپّے چِپّو (ملوی) نکالنے دریا میں اترے 8 افراد جاں بحق، 3 لاپتہ

  بھٹکل میں ہولناک سانحہ: دریا میں کَپّے چِپّو( ملوی ) نکالنے گئے 8 افراد ڈوب کر جاں بحق، 3 لاپتہ بھٹکل، 24 مئی: کرناٹک کے ضلع اُتر کنڑا کے بھٹکل تعلقہ کے تٹی ہکلا کے قریب واقع وینکٹاپور دریا میں اتوار کے روز ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ کَپّے […]

You May Like