
بھٹکل: 17 جون بروز بدھ مسلم نوجوان کے ساتھ ہندو لڑکی کی گاڑی میں آمد و رفت کے معاملے پر تنازع، ہندو کارکنان کے خلاف مقدمہ درج، پولیس تھانے کے سامنے احتجاج
بھٹکل میں ایک مسلم نوجوان اور ہندو لڑکی کے ساتھ گاڑی میں گھومنے کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ ہندو کارکنان نے مذکورہ نوجوان اور لڑکی سے سوال جواب کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد پولیس نے چند ہندو کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
مقدمہ درج کیے جانے کے خلاف ہندو تنظیموں کے کارکنان نے شہر کے پولیس تھانے کے سامنے احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لیے جائیں اور معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔

احتجاج کے دوران ضلع کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایڈیشنل ایس پی) یم کرشنا مورتی موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے بات چیت کی۔ پولیس حکام نے احتجاج کرنے والوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ معاملے کا جائزہ لیا جائے گا اور قانونی تقاضوں کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے دھرنے پر بیٹھے افراد سے درخواست کی کہ وہ احتجاج ختم کریں اور انہیں کل شام تک معاملے کے حل کے لیے مہلت دیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تمام فریقوں کے مؤقف کو سننے کے بعد مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب ہندو رہنما گووند نائک نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہندو کارکنان کے خلاف درج مقدمات واپس نہ لیے گئے تو “بھٹکل چلو” تحریک شروع کی جائے گی اور بڑے پیمانے پر احتجاج
کیا جائے گا۔
فی الحال پولیس اور احتجاجی نمائندوں کے درمیان بات چیت جاری ہے، جبکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔
رپورٹ : کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

