
بھٹکل میں ’مورین کٹے‘ انہدام معاملہ، بی جے پی کا 29 مئی کو بڑے احتجاج کا اعلان
بھٹکل: بھٹکل تعلقہ میں نئے سرے سے تعمیر کیے گئے ’’مورین کٹے‘‘ کے انہدام کے بعد سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر بی جے پی اور حکمراں جماعت کانگریس کے درمیان شدید لفظی جنگ جاری ہے، جبکہ بی جے پی نے 29 مئی کو ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔
بھٹکل میں واقع بی جے پی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ضلعی صدر این ایس ہیگڑے نے کہا کہ مورین کٹے کو منہدم کیے جانے کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس انتظامیہ نے اصل ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پرامن احتجاج کرنے والے بی جے پی کارکنان کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندو کارکنان کے خلاف درج تمام مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ ان کے مطابق پولیس کی کارروائی یکطرفہ اور غیر منصفانہ ہے، جس سے عوام میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔
این ایس ہیگڑے نے بتایا کہ 29 مئی کو ہونے والے احتجاج میں بی جے پی کے کئی سرکردہ رہنما شرکت کریں گے، جن میں ریاستی صدر بی وائی وجیندر، اپوزیشن لیڈر آر اشوک اور رکن پارلیمنٹ وشویشور ہیگڑے کاگیری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج عوامی جذبات کی نمائندگی کرے گا اور مورین کٹے کی دوبارہ تعمیر کے مطالبے کو مضبوط انداز میں پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب رکن پارلیمنٹ وشویشور ہیگڑے کاگیری نے بدھ کے روز بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر بھٹکل کے امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں مسلمانوں کی موجودگی میں مورین کٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
کاگیری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مورین کٹے کی دوبارہ تعمیر حکومت خود کرائے، اور اگر ایسا ممکن نہیں تو مقامی تنظیموں کو اس کی تعمیر کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران کاگیری نے حال ہی میں شرالی میں پیش آئے المناک حادثے پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ریاستی حکومت سے حادثے کی مکمل تحقیقات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر سابق وزیر شوانند نائک، سابق ایم ایل اے سنیل نائک، بی جے پی منڈل صدر لکشمی نارائن نائک، بی جے پی مہیلا مورچہ کی ضلعی صدر شیوانی شانتارام سمیت دیگر کئی عہدیداران اور کارکنان بھی موجود تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مورین کٹے کا معاملہ آنے والے دنوں میں بھٹکل کی سیاست میں مزید گرماہٹ پیدا کر سکتا ہے، جبکہ 29 مئی کا احتجاج علاقے کی سیاسی صورتحال پر گہرا اثر ڈالنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

