
ستاروں کی دنیا میں رخصت ہونے والے عوامی افسر مہانتیش بلّیگی کی درخشاں کہانی
بنگلور: مہانتیش بلّیگی اب ہماری درمیان نہیں رہے…
جن لوگوں نے بھی اُن سے ملاقات کی، سب ایک ہی بات کہتے ہیں: “بلّیگی صاحب مسکراہٹ کے ساتھ ہی کام کروا لیتے تھے۔”
واقعی، 27 مارچ 1974 کو ضلع بیلگاوی کے رامدُرگ میں جنم لینے والے مہانتیش بلّیگی ایک سادہ دیہاتی لڑکے سے لے کر کرناٹک کے سب سے محبوب آئی اے ایس افسر تک کا سفر طے کرنے والی ایک زندہ مثال تھے—ایک ایسی کہانی جو مسلسل خدمت، سادگی اور انسانیت کی خوشبو سے مہکتی ہے۔
2012 بیچ کے کرناٹک کیڈر کے آئی اے ایس افسر کی حیثیت سے ان کی شناخت ہمیشہ ایک ہی رہی—
“عوام کے افسر”۔
ضلع پنچایت کے سی ای او کی حیثیت سے گاؤں گاؤں پہنچ کر لوگوں کی تکلیفیں سنی،
دونگری کے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے شہر کے انتظام میں نئی روح پھونکی،
اور BESCOM کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر لاکھوں گھروں تک روشنیاں پہنچائیں۔
اپنی آخری ذمہ داری KSMCL میں انہوں نے معدنی وسائل کو ریاست اور ملک کے مفاد میں دیانتداری سے محفوظ رکھا۔
ان کے دفتر کا دروازہ کبھی بند نہیں رہتا تھا۔
شکوہ کرنے والا کوئی بھی شخص آتا، تو بلّیگی صاحب پہلے اسے بیٹھنے کا کہتے، چائے پلاتے، اور پھر اس کی شکایت کا فوراً حل نکالتے۔
ان کا ایمان تھا:
“اختیار صرف عوام کی خدمت کے لیے ہوتا ہے۔”
لیکن 25 نومبر 2025 کی وہ دلخراش رات…
جب جیورگی تعلقہ کے گونہلی کے قریب ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی، تو کرناٹک نے اپنے ایک نایاب عوامی افسر کو کھو دیا۔
51 سال کے اس نوجوان، مسکراتے، انسان دوست افسر کے ساتھ ان کے عزیز بھائی شَنکر اور رشتے دار ایرنّا بھی اس حادثے میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔
مہانتیش بلّیگی تو چلے گئے،
مگر ان کی مسکراہٹ، ان کی خدمت، ان کی سادگی اور ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
کرناٹک کی انتظامیہ میں مہانتیش بلّیگی ہمیشہ ایک روشن چراغ کی طرح یاد رکھے جائیں گے۔
رپورٹ کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

