
موڈبیدری پولیس انسپکٹر سندیش کے خلاف خاتون کی جانب سے سنگین جنسی ہراسانی کے الزامات، اعلیٰ حکام کو شکایت
منگلورو: کرناٹک کے ضلع دکشن کنڑا کے علاقے موڈبیدری میں تعینات ایک پولیس انسپکٹر کے خلاف ایک خاتون نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس کے بعد یہ معاملہ پولیس محکمے میں زیرِ بحث آ گیا ہے۔ انسپکٹر پی۔جی۔ سندیش پر خاتون نے جنسی ہراسانی اور دھمکی دینے کے الزامات لگاتے ہوئے اعلیٰ حکام کو شکایت درج کروائی ہے۔
متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق، ان کے شوہر ایک سماجی کارکن ہیں۔ کچھ خواتین نے جب مذکورہ پولیس افسر کے خلاف ہراسانی کی شکایت کرتے ہوئے مدد مانگی، تو ان کے شوہر نے انہیں رہنمائی فراہم کی۔ اس پر ناراض ہو کر انسپکٹر نے ان کے شوہر کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا، ایسا الزام لگایا گیا ہے۔
پیسے کی مانگ اور دھمکیوں کا الزام
خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے شوہر کی رہائی کے لیے پولیس تھانے گئیں، تو انسپکٹر نے بڑی رقم کا مطالبہ کیا۔ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں شوہر کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنے اور انہیں روڈی شیٹر میں شامل کرنے کی دھمکی دی گئی۔
خاتون کے مطابق، وہ پوری رقم ادا کرنے کے قابل نہ تھیں، اس لیے انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق کچھ رقم دے کر شوہر کو اسٹیشن بیل پر رہا کروایا۔ تاہم اس کے بعد بھی ہراسانی جاری رہی، جس کی وجہ سے ان کے شوہر کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔
دیگر خواتین کی جانب سے بھی الزامات
اس معاملے میں مزید کچھ خواتین نے بھی انسپکٹر کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ خاندانی جھگڑوں کے معاملات میں تھانے آنے والی خواتین کو نشانہ بنا کر ہراساں کیا جاتا تھا۔
سی سی ٹی وی اور آڈیو وائرل
ایک اور واقعے میں الزام ہے کہ انسپکٹر نے رات کے وقت ایک ایسی خاتون کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کا شوہر بیرونِ ملک کام کرتا ہے۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اسی کے ساتھ ایک آڈیو کلپ بھی وائرل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس میں ایک خاتون پولیس افسر کو خبردار کرتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔
اعلیٰ حکام کو شکایت
ان تمام الزامات کے پیشِ نظر خاتون نے ڈی جی-آئی جی پی، وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کو شکایت پیش کی ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ : کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

