ہندو تنظیموں کی جانب سے مورین کٹّے کی مسماری کے خلاف 5 جون بروز جمعہ کو بھٹکل بند اور احتجاجی ریلی

بھٹکل: مورین کٹّے کی مسماری کے خلاف 5 جون کو ہندو تنظیموں کا احتجاجی مظاہرہ اور بھٹکل بند منایا جائے گا

بھٹکل: مورین کٹّے کے نو تعمیر شدہ ڈھانچے کی مسماری کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ہندو تنظیموں کے اتحادی نے 5 جون کو دوپہر کے وقت ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالنے اور فوری طور پر ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامیہ کو میمورنڈم پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں مٹّلی کے لکشمی نرسمہا مندر میں منعقدہ ہندو تنظیموں کے اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد طے پایا کہ 5 جون کو دوپہر 3 بجے سے شہر میں رضاکارانہ بند منایا جائے گا۔ اس کے بعد چنّاپٹن ہنومان مندر سے احتجاجی ریلی روانہ ہوگی، جو پھول بازار ، ماریکامبا مندر، اولڈ بس اسٹینڈ، اور قومی شاہراہ سے گزرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پہنچے گی، جہاں حکام کو یادداشت پیش کی جائے گی۔

احتجاج کے پیشِ نظر تنظیموں نے تعلقہ کی تمام گرام پنچایت حدود میں عوامی بیداری مہم چلانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف دیہات کی سطح پر ابتدائی مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔

ہندو تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ مورین کٹّے کی دوبارہ تعمیر کی جائے، مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، ذمہ داران پر مقدمات درج کیے جائیں، اور ہندو تنظیموں کے کارکنان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔ ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تعلقہ انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مؤثر نگرانی کرنی چاہیے۔

تنظیموں نے زور دے کر کہا کہ مورین کٹّے کی تعمیر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور اگر انتظامیہ اس سلسلے میں اقدام نہیں کرتی تو وہ خود اس کی تعمیر کریں گے۔ اتحاد نے تمام ہندو برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھٹکل بند کی حمایت کریں اور اس واقعے کے خلاف آواز بلند کریں۔
رپورٹ : کراولی نیوز نیٹ ورک بھٹکل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


Next Post

بھٹکل مورین کٹے کی ازسرِنو تعمیر کا فیصلہ، اصل مقام پر واپسی

بھٹکل مورین کٹے کی از سرِ نو تعمیر کو ہری جھنڈی، اصل مقام پر ہی دوبارہ قائم کیا جائے گا بھٹکل: گزشتہ چند ماہ سے زیرِ بحث رہنے والے مورین کٹے معاملے کے حل کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے مورین کٹے کو اس کے اصل مقام پر […]

You May Like